پهلا حصه
خطبہ ایک نظر میں
اس خطبہ کا نہج البلاغہ کے اہم خطبوں میں شمار ہوتا ہے اسی وجہ سے اس خطبہ کو اس کتاب کے مطلع کے عنوان سے رکھا گیا ہے اور یہ مرحوم رضی کے حسن انتخاب کی بہترین دلیل ہے ۔
اس خطبہ میں اسلامی جہان بینی کاایک مکمل مرور ہے کہ جس میں خداوند عالم کے صفات کمال و جمال اس کے متعلق عجیب دقیق باتیں شروع کی ہیں، پھر جہان کی پیدائش کے مسئلہ کوعمومی طور سے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی پیدائش، فرشتوں کی پیدائش، آدم علیہ السلام کی پیدائش، فرشتوں کے سجدہ کرنے کا واقعہ، ابلیس کی مخالفت اور حضرت آدم کے زمین پر نازل ہونے کو بیان کیا ہے ۔
خطبہ کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے انبیاء کی بعثت، اس کا فلسفہ، پیغمبر اکرم(ص)کی بعثت ، قرآن مجید کی عظمت اور سنت پیغمبر(ص)کی اہمیت کو بیان کیا ہے اور خدا کے عظیم فریضہ اور اس کے فلسفہ اور اسرار کو بیان کیا ہے، اس طرح سے کہ اس خطبہ کے متن پر اگر غور و فکر کی جائے تو اس سے ہمیں اسلام کے اہم ترین مسائل سے متعلق ایک مکمل راہنمائی حاصل ہو جاتی ہے اور مسائل کی بہت سی مشکلات اور پیچیدگیاں حل ہوجاتی ہیں ۔
ایک طرح سے یہ خطبہ ، قرآن مجید میںفاتحة الکتاب کی جگہ ہے جس میں نہج البلاغہ میں بیان ہونے والے تمام مسائل کو فہرست کے عنوان سے بیان کرتا ہے ، کیونکہ تمام خطبوں، خطوط، اور کلمات قصارمیں بیان ہونے والی تمام چیزوں کا اس خطبہ میں خلاصہ کے طور پر ذکر گیا ہے ۔
ہم نے اس خطبہ کو پندرہ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر حصہ کی مستقل طور پر تحقیق و تقسیم کی ہے، پھر مجموعی طور پر اس سے نتیجہ اخذ کیا ہے ۔
۱۔یہ خطبہ(اگر چہ دوسری کتابوں میں کامل طور سے بیان نہیں ہوا بلکہ اس کے کچھ حصہ بیان ہوئے ہیں) دوسری بہت سی کتابوں میں مرحوم سید رضی سے پہلے بھی اور ان کے بعد بھی نقل ہوا ہے ۔ مرحوم سید رضی سے پہلے جن لوگوں نے اس خطبہ کے کچھ حصوں کو بیان کیا ہے ان بزرگوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مرحوم صدوق نے کتاب توحید میں ، ۲۔ مرحوم ابن شعبہ حرانی نے کتاب تحف العقول میں اس کو بیان کیا ہے ۔
اور جن لوگوں نے سید رضی کے بعد اس خطبہ کے کچھ حصوں کو نقل کیا ہے ان کے بھی نام مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ واسطی نے کتاب عیون الحکمة والمواعظ میں ۲۔ مرحوم طبرسی نے احتجاج میں ۳۔ ابن طلحہ نے کتاب مطالب السئول میں۴۔ القاضی القضاعی نے دستور معالم الحکم میں ۔ ۵۔ فخر رازی نے تفسیر کبیر میں ۔ ۶۔ زمخشری نے ربیع الابرار میں ۔ ۷۔ قطب راوندی نے منھاج البراعة میں ۔ ۸۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی جلد ۴، ۱۱، ۱۸، ۵۷، ۷۷، ۹۲، اور ۹۳ میں بیان کیا ہے ۔
البتہ اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ مندرجہ بالا کتابوں میں جو تعبیرات بیان ہوئی ہیں وہ نہج البلاغہ سے مختلف ہیں ۔
پہلا حصہ
۱۔ ومن خطبہ لہ علیہ السلام
یذکر فیہ ابتداء خلق السماء والارض و خلق آدم و فیھا ذکر الج و تحتوی علی حمداللہ و خلق العالم و خلق الملائکة واختیار النبیاء و مبعث النبی والقرآن والاحکام الشرعیہ:
الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون ولا یحصی نعمائہ العادون ولایوٴدی حقہ المجتہدون۔ الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن، الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل ممدود، فطر الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد بالصخور میدان ارضہ․
ترجمہ
امام علیہ السلام کا وہ خطبہ جس میں ابتدائے آفرینش زمین و آسمان، پیدائش آدم،حج کاذکر، خداوند عالم کی حمد و ثنا، عالم اور ملائکہ کی پیدائش، انبیاء کا انتخاب، پیغمبر اکرم(ص)،قرآن اور احکام شرعیہ کے نازل ہونے کا ذکر کیا ہے ۔
تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے، نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کرسکتے ہیں ۔ وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک
پہنچ سکتی ہیں ۔ اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں ۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے ۔اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں ۔
شرح و تفسیر
عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی ذات کی تہ تک نہیں پہنچ سکتیں!
اس خطبہ کے اس حصہ پر ایک مختصر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ امیر المومنین علی(ع) نے اوصاف الہی کی بارہ صفتوں کو منظم و منسجم طور سے بہترین سانچہ میں ڈھالہ ہے:
پہلے مرحلہ میں بتاتے ہیں کہ بندے، خداوند عالم کی مدح وثنا اور اس کا شکر کرنے کے عملی میدان میں کتنے ناتوان ہے(اس مرحلہ میں تین صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے) ۔
دوسرے مرحلہ میں اس حقیقت کوبیان کرتے ہیں کہ فکر و عقل کے لحاظ سے بھی کس طرح انسان اس کی عظمت اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے میںعاجز ہیں(اس مرحلہ میں دو صفتوں کی طرف اشارہ ہوا ہے) ۔
تیسرے مرحلہ میں اس بات کی کی دلیل کو بیان کرتے ہیں کہ اس کی ذات پاک ہر طرح سے نامحدود اور اس کی نعمتیں بے شمار ہیں اور اس کی ذات کو درک کرنے یااس کا حق ادا کرنے میں اسی وجہ سے ہم مجبور ہیں(اس مرحلہ میں چار صفتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے) ۔
آخر کار چوتھے مرحلہ میں اس جہان کی پیدائش اور مخلوقات کے متعلق اشارہ کرتے ہیں گویااس حقیقت کو بیان کرنا چاہتے ہیں کہ اس کی ذ۱ت کو صرف اسی طریقہ سے پہچانا جاسکتا ہے اور یہی ہماری حداکثر طاقت و قدرت ہے(اس حصہ میں اس کے صفات افعال میں سے تین صفت کی طرف اشارہ ہوا ہے) ۔
یہ سب چیزیں گواہی دیتی ہیں کہ اس بزرگ معلم نے اپنے اس خطبہ میں بہت بلند و بالا تعبیرات کا انتخاب کیا ہے جو سب کی سب بہت منظم اور مخصوص نظام کے ساتھ بیا ن کی گئی ہیں ۔
اس اجمالی نگاہ کے ساتھ مندرجہ بالا بارہ اوصاف کی طرف پلٹتے ہیں:
امام (ع)اپنی بات کو حمد و ثنائے الہی سے شروع کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: تمام حمد اس اللہ کے لئے ہے ، جس کی مدح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں(الحمدللہ الذی لا یبلغ مدحتة القائلون) ۔(۱) ۔
۱۔ حمد،مدح اور شکر کے معنی کی وضاحت میں قرآن کریم اور نہج البلاغہ کے مفسرین میں بہت زیادہ اختلاف ہے لیکن ان کے درمیان مشہور یہ ہے کہ اختیاری حالت میں ہر اچھے کام کی تعریف کرنے کو ”حمد“ کہتے ہیں، جب کہ مدح کا مفہوم اس سے بہت زیادہ وسیع ہے ، اختیاری اور غیر اختیاری کاموں کی تعریف کو شامل ہوتی ہے،لیکن شکر اس جگہ استعمال ہوتا ہے جہاں کسی کودوسرے سے کوئی نعمت ملے اور وہ اس نعمت کی وجہ سے شکر کرے (اس متعلق زیادہ وضاحت کیلئے مجمع البحرین، لسان العرب، مفردات، شرح ابن میثم اور علامہ خوئی کی شرح میں مراجعہ کرسکتے ہیں) ۔
جب کہ قرآن اور نہج البلاغہ کے بعض مفسیرین جیسے زمخشری نے کشاف، ابن الحدید نے اپنی شرح میں حمد اور مدح کو برابر شمار کیا ہے اور ان دونوں کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح لگتی ہے ۔
کیونکہ اس کے صفات ”کمال“ اور صفات ”جمال“ حد سے زیادہ ہیں ۔ انسان اور فرشتہ جو کچھ بھی اس کی حمد وثنا کرتے ہیں وہ اپنی شناخت و معرفت کی حد تک کرتے ہیں ، اس کے کمالات کی مقدارتک نہیں ۔
جب پیغمبر اکرم(ص)جو کہ خدا کے سب سے بڑے پیغمبر ہیں، ایک مشہور حدیث کے مطابق خداوند عالم کی معرفت سے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: ”ما عرفناک حق معرفتک“(۱)تو دوسرے لوگ کس طرح اس کی معرفت کا دعوی کرسکتے ہیں؟ اور جب انسان اس کی معرفت سے عاجز ہو تو پھر کس طرح اس کی حمد و ثناء کا حق ادا کرسکتا ہے؟ اس بناء پر ہماری ”حمد“ کی سب سے زیادہ حد یہی ہے کہ مولا نے فرمایا ہے یعنی اس کی حمد وثنا کے مقابلہ میں عاجزی اور ناتوانی کا اظہار کرنا اور اس بات کااعتراف کرنا کہ کسی بھی بولنے ولے میں اس کی مدح تک رسائی نہیںہے ۔
۱۔ مرحوم علامہ مجلسی نے اپنے ایک مفصل بیان کے ضمن میں بحار الانوار کی کچھ روایتوں کی توضیح دیتے ہوئے محقق طوسی کے کلام کے ذیل میں اس حدیث کو بغیر کسی سند کے پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ و الہ)سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا ہے: ”ما عبدناک حق عبادتک و ما عرفناک حق معرفتک“(بحار الانوار، ج ۶۸، ص ۲۳) ۔
ایک حدیث میں امام صادق(ع)نے فرمایا ہے: خداوند عالم نے حضرت موسی(ع)پر وحی بھیجی: ائے موسی! میرے شکر کا حق ادا کرو ۔ عرض کیا: پروردگارا! کس طرح تیرے شکر کا حق ادا کروں جبکہ جب بھی میں تیرا شکر کرتا ہوں تو یہ خود ایک نعمت ہے جو تو نے مجھے عطاء کی ہے(اور شکر کی توفیق دی اس طرح ایک اور نعمت مجھے عطاء کردی لہذا اس کا بھی شکر ادا کرنا لازم ہے)؟!
فرمایا : ” یا موسی الان شکرتنی حین علمت ان ذلک منی“ اے موسی ! اب تم نے میرا شکر ادا کیا جب تم نے یہ جان لیا کہ یہ بھی میں نے ہی تمہیں عطا کیا ہے(اور تم شکر ادا کرنے سے ناتوان ہو)(۲) ۔
۲۔ اصول کافی، جلد دوم ، ص ۹۸، حدیث ۲۷۔
البتہ ایک لحاظ سے جب انسان کہتا ہے : ”الحمدللہ“ (تمام حمد و ثناء خداوند عالم سے مخصوص ہے)تو حمد و الہی کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی ۔ اسی وجہ سے ایک حدیث میں ملتا ہے کہ امام صادق(ع)مسجد سے باہر آئے تو آپ کی سواری غایب تھی، آپ نے فرمایا: اگر خداوند عالم اس کو مجھے پلٹا دے تو اس کے شکر کا حق ادا کروںگا، ابھی کچھ ہی دیر گذری تھی کہ آپ کی سواری واپس آگئی ،اس وقت آپ نے عرض کیا: الحمدللہ! ، کسی نے کہا: (آپ پر قربان ہوجاؤں)آپ نے تو فرمایا تھاکہ خدا کے شکر کا حق ادا کروںگا؟ امام نے فرمایا: کیا تم نے نہیں سنا کہ میں نے ”الحمدللہ“ کہا ہے (کیا اس سے بڑھ کر کوئی چیز ہے جس کو اس اس کی حمد و ثناء کے لئے مخصوص سمجھوں)(۳) ۔
۳۔ وہی حوالہ، ص ۹۷، حدیث ۱۸۔
دوسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے( ولا یحصی نعمائہ العادون )
کیونکہ اس کی مادی و معنوی، ظاہری و باطنی اور فردی و اجتماعی نعمتیں اس سے کہیں زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کیا جائے ۔
انسان کا بدن بے حد و حساب سلول اور جراثیم سے تشکیل پایا ہے(متوسط طور سے ۱۰ ملیون ملیارد)جس میں سے ہر ایک اپنی بناوٹ کے لحاظ سے ایک موجود زندہ ہے اور ان میں سے ہر ایک ایسی نعمت ہے جس کو دسیوں ہزار سال تک شمار کرنا ممکن نہیں ہے ۔ جب انسان خدا کی ان نعمتوں کے چھوٹے سے حصہ کو شمار نہیں کرسکتا تو پھر کس طرح ان سب نعمتوں کو چاہے وہ مادی ہوں یا معنوی،شمار کرسکتا ہے؟اصلا ہم اس کی تمام نعمتوںسے آگاہ نہیں ہیں تاکہ ان کو شمار کرسکیں،اس کی بہت سی نعمتوںنے ہمارے وجود کا احاطہ کرکھا ہے جو کبھی بھی ہم سے سلب نہیں ہوسکتیں، جس کی وجہ سے ہم ان کے وجود کو درک نہیں کر پاتے(کیونکہ کسی نعمت کا وجود اس کے گم ہونے کے بعد معلوم ہوتا ہے)اس کے علاوہ جس قدر بھی انسان کا علم و دانش وسیع ہوتا جائے گا اسی قدر وہ خدا وند عالم کی جدید نعمتوں کو حاصل کرتا جائے گا ۔ ان تمام باتوں کے باوجود قبول کرلینا چاہئے(جیسا کہ مولائے متقیان نے فرمایا ہے)کہ حساب کرنے والے اس کی نعمتوں کو شمار نہیں کرسکتے!
یہ جملہ پہلے جملہ کیلئے علت کے طور پر ہوسکتا ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کا شمار نہیں ہوسکتا تو کس طرح اس کی حمد و ثناء اور مدح کو بجا لایا جاسکتا ہے؟
اگر چہ بہت سے بے خبراور ستمگر افراد نے اس کی بہت سی نعمتوں کا منحصر کردیا ہے یااسراف وغیرہ کے ذریعہ ان کوختم کردیا ہے اور بعض لوگوں نے خدا کی مخلوق کو زحمت میں ڈالدیا ہے، لیکن یہ کبھی بھی اس کی نعمتوں کی محدودیت پر دلیل نہیں بن سکتیں ۔
تیسری صفت میں آپ فرماتے ہیں: تلاش و کوشش کرنے والے اس کا حق ادا نہیں کرسکتے(چاہے وہ اپنے آپ کو جس قدرپریشان کرلیں) ۔(ولایوٴدی حقہ المجتہدون) ۔
حقیقت میں یہ جملہ پہلے جملہ کا نتیجہ ہے ، کیونکہ جب اس کی نعمتوں کو شمارنہیں کرسکتے تو کس طرح اس کے حق کو ادا کرسکتے ہیں؟ اور دوسرے الفاظ میں یہ کہاجائے کہ اس کا حق اس کی ذات کی عظمت کے برابر ہے اور ہماری حمد و شکر ہماری بہت کم طاقت کے مطابق ہے جس کی وجہ سے ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکتے ۔ نہ صرف مقام عمل میں اس کی مدح و ثنا کا حق ادا نہیں کرسکتے بلکہ عقل وفکر تک اس کی ذات کو درک نہیں کرسکتیں ۔
اسی دلیل کی وجہ سے مزید آپ دو صفتوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وہ خداجس کی کنہ ذات کو پلند پرواز ہمتیں اور فکریں نہیں پا سکتیںہیں ، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں(علم و دانش کے سمندر)اس کے کمال کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں ۔ ( الذی لا یدرکہ بعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن)(۱)
”بعد الھمم وغوص الفطن“ کی تعبیر سے گویا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اگر بلند فکریں صعودی قوس میںاور طاقت ور فکریں نزولی قوس میں حرکت کریں تو ان میں سے کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتی اور اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں ۔
پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے امام (علیہ السلام)نے اس کی دلیل کو بیان کیا ہے کہ کیوں انسان اس کی ذات کی تہہ تک پہنچنے سے عاجز ہیں؟ آپ فرماتے ہیں: اس کے کمال ذات کی کوئی حدمعین نہیں ۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ نہیں نہ اس (کی ابتدا)کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جاسکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہوجائے ۔( الذی لیس لصفتہ حد محدود، ولانعت(۲) موجود، ولا وقت معدود، ولا اجل(۳) ممدود) ۔
یعنی کس طرح ہم اس کی ذات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں جب کہ ہماری فکر بلکہ ہماری تمام ہستی محدود ہے اور سوائے محدود اشیاء کے کسی اور چیز کو درک نہیں کرتی اور خدا وند عالم کی ذات کی نہ کوئی حد ہے اور نہ کوئی درک کرنے والی صفت، نہ اس کا کوئی آغاز ہے اور نہ کوئی انتہاء۔
نہ صرف اس کی ذات بلکہ اس کے صفات بھی نامحدود ہیں، اس کا علم نا محدودہے اور اس کی قدرت کی کوئی انتہاء نہیں،کیونکہ یہ سب نامحدود اس کی عین ذات ہے ۔
دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ وہ مطلق ہے اور کوئی قید و شرط نہیں ہے اور اگر کوئی قید و شرط اور حد اس کی ذات میں داخل ہوجائے تو وہ مرکب ہوجائے گا، اور یہ بات معلوم ہے کہ ہر مرکب ممکن الوجود ہے نہ واجب الوجود۔ اس بناء پر واجب الوجود ایسی ذات ہے جوتمام جہات میں نا محدودہے اور اسی وجہ سے وہ اکیلااور بے نظیر ہے اس لئے کہ دو نامحدود وجود ہر جہت سے غیر ممکن ہیںکیونکہ دوگانگی ، دونوں کے محدودہونے کا سبب بنتی ہے ، یہ ایک ، دوسرے کے وجود سے فاقد ہے اور وہ دوسری بھی اس کے وجود سے (غور کریں) ۔
۱۔مقاییس اللغة کے بقول ”ھمم“، ہمت کی جمع ہے اور اس کے معنی کسی دھات کے پگھلنے، جاری ہونے اور حرکت کرنے کے ہیں اور غم و اندوھ کو اس وجہ سے ”ھم“ کہتے ہیں کہ انسان کے جسم و جان کے پگھلنے کا سبب بنتا ہے ۔پھر ہر وہ کام جس کی کوئی اہمیت ہو یا انسان کی فکر اور ہوش و حواس کو مشغول کرلے اور حرکت کا سبب بن جائے اس کو ”ہم اور ہمت“ کہتے ہیں(مفردات میں بھی اسی کے جیسے معنی بیان کئے گئے ہیں) ۔
”غوص“ کے معنی پانی کے اندر جانے کے ہیں، پھر ہر اہم کام میں داخل ہونے کیلئے استعمال ہونے لگا ۔
لسان العرب کے بقول ”فطن“، ”فطنة“(فتنہ کے وزن پر)کی جمع ہے اوراس کے معنی ہوش و حواس اور ذکاوت کے ہیں ۔
۲۔خلیل بن احمد کے بقول ”نعت“کے معنی کسی چیز کی نیک صفت کے ساتھ تعریف کرنا ہے(اس بناء پر خوب و بد کی صفت میں فرق پایا جاتا ہے) ۔
۳۔ ”اجل“ کے معنی کسی چیز کے مکمل ہونے اور اس کے وعدہ کے ختم ہونے کو کہتے ہیں، چاہے وہ انسان کی عمر کے بارے میں ہو یا دوسری چیزوں کے متعلق، یا عہدو پیمان یا قرض کے بارے میں ہو ۔
گذشتہ جملوں میں خدا کے صفات جمال و جلال (صفات ثبوتیہ اور سلبیہ)کی طرف اشارہ کرنے کے بعد پروردگار کے صفات فعل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمتوں سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑیں ۔(فطر(۱) الخلائق بقدرتہ، و نشر الریاح برحمتة ووتد(۲) بالصخور(۳) میدان(۴) ارضہ) ۔
مندرجہ بالا جملے ایک یا چند قرآنی آیتوں کو بیان کر رہے ہیں: فطر الخلائق بقدرتہ“یہ جملہ اس آیت ”فاطر السموات والارض“ کو بیان کررہا ہے یہ آیت قرآن کے چند سوروں میں ذکرہوئی ہے(۵) اور ”نشر الریاح برحمتہ“ کا جملہ، اس آیت ”وھو الذی یرسل الریاح بشری بین یدی رحمتہ(وہ خدا وہ ہے جو ہواؤں کورحمت کی بشارت بنا کر بھیجتا ہے )(۶) ۔
تیسرا جملہ اس آیة شریفہ ” والقی فی الارض رواسی ان تمید بکم“ (اور اس نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دئیے تاکہ تمہیں لے کر اپنی جگہ سے ہٹ نہ جائے)کی طرف اشارہ کررہا ہے ۔(۷) ۔
”فطر“کے معنی میں جو کچھ کہا گیا ہے اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے خلقت کو تاریک عدم کے پردہ کو پھاڑنے سے تشبیہ دی ہے ، ایسا پردہ جو منظم و منسجم اور ہر طرح کے شگاف سے خالی ہے ، لیکن خدا وند عالم کی بے انتہاء قدرت اس کو پھاڑتی ہے اور مخلوقات کو اس سے باہر بھیجتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جواس کی قدرت کے سوا انجام نہیں پاسکتی۔
آج کے دانشمند وں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہمارے لئے عدم سے کسی چیز کو وجودمیں لانا محال ہے یا موجود سے اس کو عدم کی طرف بھیجیں ۔ ہماری قدرت میں فقط موجودات کی شکل کو تغیر دینا ہے اور بس!
رحمت کی تعبیر ہواؤوں کے چلنے کیلئے بہت ہی جذاب اور سازگار تعبیر ہے کہ جو نسیم کی لطافت، ہوا کا چلنا اور اس کے مختلف آثار جیسے بادلوں کا پیاسی زمینوں کی طرف حرکت کرنا، گھانس اور درختوں کی سیچائی اور زندہ کرنا، ہوا کو جابجاکرنا، کشتیوں کو چلانا، ہوا کی گرمائی اور سردی کو معتدل درجہ پر قائم رکھنااور دوسری بہت سی برکتیں ۔
لیکن پہاڑ اور چٹانیں زمین کی لرزش کو کس طرح روکتی ہیں، علماء متقدمین کا نظریہ یہ تھا کہ زمین ، ساکن ہے جو آج قابل قبول نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ روشن اور واضح تفاسیر موجود ہیں جو علمی حقائق سے بھی سازگار ہیں اور قرآن و روایات سے بھی ہم آہنگ ہیں کیونکہ :
۱۔ زمین کی سطح پر پہاڑوں کا وجود سبب بنتا ہے کہ جزر و مد خشکی میں کم سے کم پہنچے جو کہ ماہ و خورشید کے جاذبہ کا نتیجہ ہے ۔ اگر زمین کی سطح پر ملایم و نرم مٹی ہوتی تو دریاؤں کی طرح اس میں بھی جزرومد آتا اور یہ سکون کے قابل نہ ہوتی۔
۱۔ مفردات میں راغب کے بقول”فطر“ کا مادہ ”فطر“(سطر کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ”طول“ میں پھاڑنے کے ہیںلہذا روزہ کھولنے کو افطار کہتے ہیں گویا روزہ کو اس کے ذریعہ پھاڑتے ہیں ۔ یہ لفظ آفرینش، ایجاد اور کسی چیز کو گڑھنے کے معنی میں بھی آتا ہے گویا عدم کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور عالم وجود میں قدم رکھتا ہے ۔
۲۔ ”وتد“ کا مادہ ”وتد“(وقت کے وزن پر)ہے او راس کے معنی کسی چیز کو ثابت کرنے کے ہیں،لہذا وہ کیل جو چیزوں کو ثابت کرتی ہے اور ان کو ثبات بخشتی ہے ”وتد“ کہتے ہیں ۔
۳۔ لسان العرب کے بقول ”صخور“ ، صخرہ کی جمع ہے اور اس کے معنی بڑے اور سخت پتھر کے ہیں ۔
۴۔ ”میدان“ کا مادہ ”مید“ (صید کے وزن پر)ہے اور اس کے معنی اضطراب و تحرک کے ہیں اور ”میدان“کے(ضربان کے وزن پر)بھی یہی معنی ہیں اور ”میدان“(حیران کے وزن پر’اس کے معنی وسیع فضا کے ہیں اور اس کی جمع میادین ہے ۔
۵۔ سورہ یوسف، ایت ۱۰۱۔ سورہ ابراہیم، آیت ۱۰۰۔ سورہ فاطر، آیت ۳۵ وغیرہ۔
۶۔ سورہ اعراف، آیت ۵۷۔
۷۔ سورہ نحل آیت، آیت ۱۵۔
۲۔ پہاڑوں کی جڑیںمٹی کے نیچے ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں اوراس نے زرہ کی طرح زمین کے اطراف کو پکڑ رکھا ہے اور اگر یہ نہ ہوتی تو داخلی فشار اور دباؤ جو اندر کی گیسوں اوردھات کو پگھلانے والے مادے ہمیشہ مختلف علاقوں کو ہلاتی رہتی اور آرام و سکون نہ ملتا ۔ اب بھی کبھی کبھی جب دباؤ حد سے زیادہ ہوتا ہے تو ویران کرنے والے زلزلہ وجود میں آتے ہیں اور اگر پہاڑ نہ ہوتے تو یہ زلزلہ ہمیشہ آتے رہتے ۔
۳۔ پہاڑوں نے ایک پہیے کے دانتوں کی طرح زمین کے اطراف کی ہوا میں اپنے پنجوں کو گاڑ رکھا ہے اور اس کو اپنے ساتھ حرکت دیتے ہیں ۔ اگر زمین کی سطح صاف ہو تی تو زمین کی اندرونی ، تیز حرکت اپنے اطراف میںہوا کے چھال سے ملنے کا سبب قرار پاتی۔ ایک طرف ہمیشہ شدید طوفان تمام اطراف کو گھیرے ہوئے ہوتے اور دوسری طرف بہت زیادہ گرمی اس اتصال کی وجہ سے حاصل ہوتی جس کی وجہ سے انسان کو زندگی گزارنا مشکل ہوجاتی۔
اس طرح چٹانیں(پہاڑ)اور”مَیَدان“(نامنظم اور شدید حرکتیں)زمین کوکنٹرول کرتے ہیں اس کے علاوہ پہاڑ انسانوں کے لئے پانی کا بہترین ذخیر ہ ہیں تمام چشمہ اور نہریں زمین کے نیچے اور زمین کے اوپر پہاڑوں کے ذخایر سے وجود میں آتے ہیں ۔
مندرجہ بالا ہواؤں اور انسان اور تمام موجودات کی زندگی سے متعلق پہاڑوں کے متعلق کردار کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس سے روشن اور واضح ہوجاتا ہے کہ امیر المومنین علی(علیہ السلام)نے خلقت اور آفرینش کے مسئلہ کے بعد اس کی طرف کیوںاشارہ کیا ہے اور خصوصاان دو موضوع کے اوپر کیوں تکیہ کیا ہے ۔
دوسرا حصہ
اول الدین معرفتہ و کمال معرفتہ التصدیق بہ وکمال التصدیق بہ توحیدہ و کمال توحیدہ الاخلاص لہ و کمال الاخلاص لہ نفی الصفات عنہ لشھادة کل صفة انھا غیر الموصوف و شھادة کل موصوف انہ غیر الصفة فمن وصف اللہ سبحانہ فقد قرنہ ومن قرنہ فقد ثناہ و من ثناہ فقد جزاہ و من جزاہ فقد جھلہ و من جھلہ فقد اشار الیہ و من اشارہ الیہ فقد حدہ و من حدہ فقد عدہ۔
ترجمہ
دین کی ابتداء ، اس کی معرفت اور شناخت ہے،کمال معرفت اس کی ذات پاک کی تصدیق ہے،کمال تصدیق وہی اس کی توحید ہے، کمال توحید اس کے لئے اخلاص اور تنزیہ ہے اور کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے ممکنات کے صفات کی نفی کی جائے کیونکہ ہر صفت(ان صفتوں میں سے)گواہی دیتی ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہرموصوف(ممکنات میں سے) گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے، لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرف ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا اس نے وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)اور جو اس کو نہیںپہچانتا وہ اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اور جو اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اس نے اس کی حد بندی کردی اور جو اسے محدود سمجھا اس نے اس کو شمار کرنے کے قابل سمجھ لیا(اور شرک کی وادی میں غلطاں ہوگیا)!
شرح وتفسیر
خداوند عالم کے صفات اور توحید ذات
حقیقت میں یہ حصہ خدا شناسی کا ایک کامل نصاب ہے ۔ امیرالمومنین (ع)نے اس حصہ میں بہت مختصر اور پرمعنی عبارتوں میںخداوند عالم کی اس طرح پہچان کرائی ہے کہ اس سے زیادہ کا تصور ممکن نہیں ہے اور اگر توحید اور خدا شناسی کے تمام دروس کو ایک جگہ جمع کردیاجائے تو کوئی چیز اس سے زیادہ نہیں ہوگی۔
اس حصہ میں خداوند عالم کی معرفت اورشناخت کے لئے پانچ مرحلہ ذکر فرمائے ہیں جن کو اس طرح سے خلاصہ کیاجاسکتا ہے:
۱۔ اجمالی اور ناقص شناخت۔ ۲۔ مفصل شناخت ۳۔ توحید ذات اورصفات ۴۔ اخلاص ۵۔ تشبیہ کی نفی۔
اس مرحلہ کے آغاز میں فرماتے ہیں : دین کی ابتداء ، اس کی معرفت اور شناخت ہے( اول الدین معرفتہ )
بغیر کسی و شک شبہ کے یہاں پر دین سے مراد تمام عقاید، وظایف الہی اور اعمال و اخلاق دین ہے اور واضح ہے کہ اس مجموعہ کا آغاز اور اس کا اصلی ستون ”اللہ کی معرفت“ ہے، اس بناء پر خدا کی شناخت بھی پہلا قدم ہے اور تمام اصول و فروع دین کیلئے اصلی ستون ہے جس کے بغیر یہ بہترین درخت کبھی بھی ثمر آور نہیں ہوسکتا ۔
بعض لوگوں کو جو نظریہ ہے کہ خدا کی معرفت سے پہلے بھی کسی چیز کا وجود پایا جاتا ہے اور وہ دین کے متعلق تحقیق اور مطالعہ وغیرہ ہے ، یہ لوگ بہت بڑی غلطی پر ہیں ۔ کیونکہ تحقیق کا واجب ہونا سب سے پہلے واجبات میں سے ہے لیکن خدا کی شناخت دین کا پہلا ستون ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ تحقیق ، مقدمہ ہے اور شناخت خدا ذی المقدمہ کا پہلا مرحلہ ہے(۱) ۔
۱۔ مشہور دانشمند مرحوم ”مغنیہ“نے اپنی شرح ”فی ظلال نہج البلاغہ“ میں نے اس کوخدا کے اوامر و نواہی کی اطاعت اورپیروی کے معنی میں بیان کیا ہے اور آیة اللہ خوئی (رضوان اللہ تعالی علیہ)نے بھی ان سے پہلے اسی معنی کوانتخاب کیا ہے ۔ اگر اطاعت سے ان کی مراد وسیع ہے یعنی اعتقادی امور کو بھی شامل ہے تو یہ معنی صحیح ہیں اور اگر صرف عملی امور کو شامل ہے تو مذکورہ اشکال ان پر بھی وارد ہوتا ہے ۔
یہ نکتہ بھی معلوم ہے کہ اجمالی معرفت، آدمی کی فطرت میں سمائی ہوئی ہے ۔ یہاں تک کہ تبلیغ کی بھی ضرورت نہیں ہے ، جس چیز کے لئے پیغمبران الہی، مبعوث ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اجمالی معرفت اور شناخت، تفصیلی اور کامل شناخت میں تبدیل ہوجائے اور اس کی شاخیں اور پتے رشد و نمو کریںاور اس کے اطراف میں جو مزاحم گھانس پھونس ، شرک آلود افکار کی صورت میں جمع ہوگئے ہیں ان کو دورکیا جائے ۔
دوسرے مرحلہ میں فرماتے ہیں: کمال معرفت اس کی ذات پاک کی تصدیق ہے(و کمال معرفتہ التصدیق بہ) ۔
تصدیق اور معرفت میں کیا فرق ہے اس کے متعلق مختلف تفسیریں موجود ہیں ۔ معرفت و شناخت تفصیلی ہے یا معرفت خدا وند عالم سے متعلق علم و آگاہی کی طرف اشارہ ہے، لیکن تصدیق، ایمان کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ علم ، ایمان سے جدا ہے ، ممکن ہے کہ انسان کو کسی چیز کا یقین ہو لیکن اس پر قلبی ایمان نہ ہو(یعنی اس کے مقابل میں سرتسلیم خم کرنا اوردل میں اس کو جگہ دینایا با الفاظ دیگر اس پر اعتقاد رکھنا) ۔
بعض مرتبہ بزرگ علماء ان دونوں کو ایک دوسرے جدا کرنے کیلئے سادہ مثالیں پیش کرتے ہیں: بہت سے افراد ایسے ہیں جو رات کو تاریک اور خالی کمرہ میں مردہ کے پاس ٹہرنے سے ڈرتے ہیں جبکہ انہیں یقین ہے کہ وہ مرچکا ہے لیکن ان کے دل کی گہرائیوں میں یہ علم نفوذ کرچکا ہے اور ان کو وہ ایمان اور یقین حاصل نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ وحشت پیدا ہورہی ہے ۔
دوسرے لفظوں میں علم کسی چیز سے متعلق یقینی آگاہی کا نام ہے لیکن ممکن ہے کہ اس میں سطحی پہلو پایا جاتا ہو اور انسان و روح کے وجود کی گہرائیوں میں اس نے نفوذ نہ کیا ہو لیکن جب اس کی روح کی گہرائیوں میں نفوذ کرجائے تو یقین کے مرحلہ میں پہنچ جاتا ہے اور انسان اس کے اوپر اپنے دل کی بنیاد کو رکھ دیتا ہے اور اس کو قبول کرلیتا ہے تو اس کو ایمان کا نام دیدیتا ہے ۔
تیسرے مرحلہ میں فرماتے ہیں: کمال تصدیق وہی اس کی توحید ہے،( وکمال التصدیق بہ توحیدہ) ۔
جس وقت انسان خدا کو تفصیلی معرفت یا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ استدلال و برہان کے ذریعہ پہچان لے تو ابھی وہ توحید کامل کے مرحلہ تک نہیں پہنچا ہے ۔ توحید کامل یہ ہے کہ اس کی ذات کو ہر طرح کی شبیہ و نظیراور مانندو مثل سے پاک و منزہ سمجھے ۔
کیونکہ اگر کوئی اس کے لئے شبیہ و نظیر کو قبول کرلے تو حقیقت میں اس نے جس چیز کو پہچانا ہے وہ خدانہیں تھااس لئے کہ خداوند عالم کا وجود ہر جہت سے نامحدود اور ہر چیز سے بے نیاز ہے ۔ اور جو چیز کسی سے مشابہ یا نظیر ومثل رکھتی ہو وہ محدود ہے، کیونکہ ان دو شبیہ میں سے ہر ایک کا وجوددوسرے سے جدا ہے اور ایک دوسرے کے کمالات ان میں نہیں پائے جاتے ، لہذا جب جس وقت اس کی ذات کی تصدیق، مرحلہ کمال تک پہنچ جائے اور انسان اس کو یکہ و تنہاسمجھ لے ، عدد کے اعتبار سے یکہ و تنہانہیں بلکہ یکہ و تنہا بمعنائے اس کا کوئی شریک نہ ہو اس کا کوئی شبیہ و نظیر نہ ہو ۔
اس کے بعد چوتے مرحلہ میں قدم رکھتے ہوئے اخلاص سے متعلق فرماتے ہیں: کمال توحید اس کے لئے اخلاص اور تنزیہ ہے ( و کمال توحیدہ الاخلاص لہ) ۔
اخلاص کا مادہ خلوص ہے جس کے معنی خالص کرنے ، صاف کرنے اور دوسری چیزوں سے پاک و صاف کرنے کے ہیں ۔
یہاں پراخلاص سے مراد ، عملی، قلبی یا اعتقادی اخلاص ہے اس متعلق نہج البلاغہ کے شارحین میں اختلاف ہے ۔ اخلاص عملی سے منظور یہ ہے کہ ہر شخص میں پروردگار عالم کی بے انتہاء توحیدپائی جاتی ہو، صرف اسی کو پرستش و عبادت کے لائق سمجھتا ہواور ہرچیز میں اس کے کام کی علت ، خدا ہو ۔ یہ وہی چیز ہے کہ عبادت میں اخلاص کی بحث میں فقہاء اس کے اوپر تکیہ کرتے ہیں ۔ آیة اللہ خوئی(رضوان اللہ تعالی علیہ)اس تفسیر کو ایک قول کے عنوان سے کہنے والے کا نام بیان کئے بغیر ذکر کرتے ہیں(۱) ۔
۱۔ منھاج البراعة، ج۱، ص ۳۲۱۔ شارح خوئی کے نقل کرنے کے مطابق، صدر الدین شیرازی نے بھی شرح کافی میں اسی عقیدہ کو بیان کیا ہے ۔
لیکن یہ احتمال بہت بعید ہے کیونکہ اس جملہ سے پہلے اور بعد والے جملے سب کے سب عقایدی مسائل کو بیان کررہے ہیں اور واضح ہے کہ یہ جملہ بھی اخلاص عقایدی کو بیان کررہا ہے ۔
اخلاص قلبی ، یا ”شارح بحرانی ابن میثم“ کے بقول ، زہد حقیقی یہ ہے کہ اس کا پورا دل خداوند عالم کی طرف متوجہ ہو اور اس کے علاوہ کسی کے بارے میں نہ سوچے اور ماسوی اللہ اس کو اپنے میں مشغول نہ کرے(۲) ۔ اگر چہ یہ بہت بلند و بالا مقام ہے لیکن پھر بھی یہ ان تمام جملوں سے سازگار نہیں ہے اور بعید ہے کہ اس جملہ سے مراد یہ ہو، صرف جو مفہوم اس سے مناسب ہے وہ یہ ہے کہ اپنے اعتقاد کو پروردگار کی بانسبت خالص کرے، یعنی اس کو ہر طرح سے یکہ، بے نظیراور ترکیب سے پاک و منزہ شمار کرنا ۔
۲۔ شرح نہج البلاغہ، ج۱، ص ۱۲۲۔
پانچویں جملہ میں امام(ع)نے اس معنی کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور بہت خوبصورت پیرایہ میں اس کی وضاحت کی ہے، آپ فرماتے ہیں: اور کمال تنزیہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے ممکنات کے صفات کی نفی کی جائے ( و کمال الاخلاص لہ نفی الصفات عنہ ) ۔
دوسرے الفاظ میںیہ کہا جائے کہ پہلے مرحلہ میں اخلاص کو بہ طور اجمال بیان کیا تھا اور یہاں پر جب اخلاص اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے تو تفصیلی طور پر اس کو بیان کرتے ہیں اور واضح طور پر روشن ہوجاتا ہے توحید میں اخلاص کیلئے ان تمام صفات کی نفی جائے جو مخلوق میںپائی جاتی ہیں، چاہے یہ صفات مرکب ہوں یا مرکب نہ ہوں ۔ چاہے یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام ممکنات حتی عقول و نفوس مجردہ بھی حقیقت میں مرکب(کم سے کم وجود اور ماہیت سے مرکب)ہیں یہاں تک کہ مجردات، یعنی موجودات مافوق مادہ بھی اس ترکیب سے جدانہیںہیں، لیکن موجودات مادی، سب میں اجزائے خارجی پائے جاتے ہیں لیکن خدا وند عالم کی ذات میں نہ جزائے خارجی پائے جاتے ہیں اور نہ اجزائے عقلی، نہ خارج میں تجزیہ کے قابل ہیں اور نہ فہم و ادراک میں ۔ اور جو بھی اس حقیقت کی طرف توجہ نہ کرے وہ خالص توحید کو حاصل نہیں کرسکا لہذا یہاں سے واضح ہوجاتا ہے جو آپ نے فرمایا: اس کی توحید کا کمال یہ ہے کہ اس سے صفات کی نفی کی جائے ، صفات کمالیہ کی نفی مراد نہیں ہے کیونکہ تمام صفات کمالیہ چاہے وہ علم ہو یا قدرت ، حیات اور اس کے علاوہ کوئی اور صفات کیونکہ یہ سب خدا کے صفات ہیں، بلکہ اس سے مراد وہ صفات ہیں جن کی ہمیں عادت ہوگئی ہے اور ہم نے ان کو پہچان لیا ہے یعنی مخلوقات کی صفات جن میں نقص ملا ہوا ہے ۔ مخلوقات میں علم و قدرت پایا جاتا ہے لیکن ناقص و محدود علم اور قدرت پایا جاتا ہے اور اس میں جہل و کمزوری پائی جاتی ہے جبکہ خدا وند عالم کی ذات ایسے علم و قدرت سے پاک و منزہ ہے ۔
ان باتوں پرامام علیہ السلام کا وہ جملہ گواہ ہے جو آپ نے اس خطبہ کے ذیل میں فرشتوں سے متعلق فرمایا ہے: ” لایتوھمون ربھم بالتصویر ولا یجرون علیہ صفات المصنوعین“۔وہ کبھی بھی اپنے پروردگار کو وہم کی وقت سے نہیں دیکھتے اورخدا وند عالم میں مخلوقات کے صفات کے قائل نہیں ہیں ۔
اس کے علاوہ مخلوقات کے صفات ہمیشہ اس کی ذات سے جدا ہیں، یادوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ ان کے صفات ، زاید برذات ہیں ۔ انسان ایک چیز ہے اور اس کا علم و قدرت ایک دوسری چیز ہے اس بناء پر اس کاوجود ان دو چیزوں سے مرکب ہے، جب کہ خدا کے صفات ، عین ذات ہیں اوران میںکسی طرح کی کوئی ترکیب نہیں پائی جاتی۔
حقیقت میں توحید اور خدا شناسی کے راستہ میں سب سے بڑاخطرہ یہ ہے کہ انسان ”قیاس“ میں نہ پڑ جائے یعنی خدا کے صفات کا مخلوقات کے صفات سے مقائسہ کرے کہ جو مختلف طرح کے نقائص سے ملا ہوا ہے اور یا صفات زاید بر ذات کے وجود کا اعتقاد رکھنا ہے جیساکہ اشاعرہ(مسلمانوں کا ایک گروہ) اس عقیدہ میں گرفتار ہیں(۱) ۔
۱۔ ابو الحسن اشعری کے ماننے والوں کو اشاعرہ کہتے ہیںیہ لوگ معانی پر اعتقاد رکھتے ہیں اور معانی سے ان کی مراد یہ ہے کہ صفات کے مفہوم جیسے عالمیت، غالبیت وغیرہ خدا وند عالم کی قدیم اور ازلی ذات کی طرح ہیں اور در عین حال اس کی ذات سے جدا ہیں اس طرح یہ لوگ چند امر ازلی کے وجود پر اعتقاد رکھتے ہیں، یا اصطلاحا یہ کہا جائے کہ تعدد قدماء کے قائل ہیں، یہ ایسا عقیدہ ہے جو توحید خالص سے سازگار نہیں ہے لہذا اہل بیت(علیہم ا لسلام)کے ماننے والے(چونکہ انہوں نے اہل بیت ہی سے علم حاصل کیاہے)(اس طرح کی باتوں کو جو اس خطبہ، پوری نہج البلاغہ اور معصومین(علیہم السلام)کے کلام میں بیان ہوئی ہیں)معانی کو صفات زائد بر ذات سمجھتے ہیں اور اس کی نفی کرتے ہیں ۔
اسی دلیل کی بناء پر امام علیہ السلام بعد والے جملہ میں فرماتے ہیں:کیونکہ ہر صفت(ان صفتوں میں سے)گواہی دیتی ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے اور ہرموصوف(ممکنات میں سے) گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی اور چیز ہے(لشھادة کل صفة انھا غیر الموصوف و شھادة کل موصوف انہ غیر الصفة ) ۔
آپ کا یہ بیان حقیقت میں ایک واضح منطقی دلیل ہے جس میں فرمایا ہے : صفات زاید بر ذات گواہی دیتے ہیں کہ وہ موصوف سے جداہیں اور ہر موصوف گواہی دیتا ہے کہ وہ صفت کے ساتھ دو ہیں، لیکن یہ بات کہ اس کے صفات کو عین ذات سمجھیں اور معتقد ہوجائیں کہ خداوند ذاتی ہے جس کا تمام علم، قدرت، حیات، ازلی اور ابدی ہے، اگرچہ ایسے معانی کو ہمارے لئے درک کرنا جبکہ ہمیں مخلوقات کے صفات کی عادت ہوگئی ہے اور انسان کو ایک چیز اور اس کے علم و قدرت کو اس کی ذات پر زاید سمجھتے ہیں ،بہت دشوار ہے ، (کیونکہ انسان جس وقت پیدا ہوا تو نہ علم رکھتاتھا اور نہ قدرت ، اس کے بعد وہ صاحب علم و قدرت ہوگیا) ۔
اس کے بعد اپنی بات کو کامل کرتے ہوئے ایک مختصر اور پرمعنی جملہ کا اضافہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرح ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)(فمن وصف اللہ سبحانہ فقد قرنہ ومن قرنہ فقد ثناہ و من ثناہ فقد جزاہ و من جزاہ فقد جھلہ) ۔
حقیقت میں امام علیہ السلام کا کلام اس معنی کو بتاتا ہے کہ مخلوقات کے صفات کو خداوندعالم کے لئے ثابت کرنے کا لازمہ اس کے وجود میں ترکیب کا سبب ہے، یعنی جس طرح انسان ذات اور صفات سے مرکب ہے وہ بھی اسی طرح مرکب ہوجائے اور یہ معنی واجب الوجود ہونے کے لئے سازگار نہیں ہیں، کیونکہ ہر مرکب اپنے اجزاء کا محتا ج ہے اور محتاج ہونا واجب الوجود کے لئے صحیح نہیں ہے ۔
اس عبارت کے لئے دوسری دو تفسیریں اور بیان ہوئی ہیں:
اول : جب بھی اس کے صفات کو اس کی ذات کا غیر سمجھیں تو لا محالہ اس کی ذات مرکب ہوجائے گی ،کیونکہ ذات اور صفات کو جب دو فرض کریں گے تو ان میں ایک چیز مشترک پائی جائے گی اور ایک اس کو امیتازدینے والی(جس کو ”ما بہ الامتیاز“اور ”مابہ الاشتراک“ سے تعبیر کیاجاتا ہے)کیونکہ دونوں وجود اور ہستی میں شریک ہیں اور در عین حال ایک دوسرے سے جدابھی ہیں اور اس صورت میں اس کی ذات کو دو پہلو سے مختلف سمجھیں ۔
دوم : ہم جانتے ہیں کہ خداوندعالم کی وحدت ذات ، وحدت عددی کے معنی میں نہیں ہے بلکہ خدا کی ذات میں وحدت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی شبیہ ونظیر نہیں ہے ۔ اصولی طور پر ایک بے نہایت وجود ہر لحاظ سے کسی بھی چیز سے مشابہ نہیں ہوسکتا اور اگر خدا کے صفات کو اس کی ذات کی طرح ازلی، ابدی اور بے نہایت سمجھیں تو ہم نے اس کو محدود بھی کردیا ہے اور اس کے لئے شبیہ و نظیر کے بھی قائل ہوگئے ہیں(غور و فکر کریں) ۔
حقیقت میں امام علیہ السلام نے اخلاص کی وضاحت میں جو باتیں بیان فرمائی ہیں وہ اسی معنی کو بتارہی ہیں، امام فرماتے ہیں: لہذا جس نے ذات الہی کے علاوہ (مخلوق کے صفات کی طرح ) اس کے صفات مانے اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیااور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا وہ دوئی(دوگانگی) کا قائل ہوگیا اور جو دوئی(دوگانگی)کا قائل ہوا وہ اس کے لئے اجزا کا قائل ہوگیا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا(اس نے خدا کو نہیں پہچانا)کیونکہ اس نے خدا کو اپنے جیسا (ترکیب و محدودیت کے لحاظ سے)تصور کرلیا اور اس کا نام خدا رکھ دیا ۔
امام علیہ السلام اپنے بیان کو کامل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اور جو اس کو نہیںپہچانتا وہ اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اور جو اس کو قابل اشارہ سمجھتا ہے اس نے اس کی حد بندی کردی اور جو اسے محدود سمجھا اس نے اس کو شمار کرنے کے قابل سمجھ لیا(اور شرک کی وادی میں غلطاںہوگیا)!(و من جھلہ فقد اشار الیہ و من اشارہ الیہ فقد حدہ و من حدہ فقد عدہ۔)
یہاں پر ”خدا کی طرف اشارہ “کرنے سے کیا منظور ہے اس میں دو احتمال پائے جاتے ہیں: اول : یہ ہے کہ اشارہ عقلی مراد ہے اور دوسرے یہ کہ اشارہ عقلی اور اشارہ حسی دونوں پائے جاتے ہیں ۔
زیادہ وضاحت یہ ہے کہ جب انسان خدا کو اس کی نامحدود اور نامتناہی حقیقت کو نہ سمجھیں تو اس نے اپنے ذہن میںاس کا ایک خاص محدود تصور کرلیا اور دوسرے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ اس عقلی اشارہ کے ذریعہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے اس حالت میں فطری طور پر اس کو محدود سمجھا کیونکہ نامحدود ونامتناہی خود محدود و متناہی انسان کیلئے قابل درک و تصور نہیں ہے ، انسان اس چیز کو درک کرتا ہے جس کا اس کو احاطہ ہوتا ہے اور اس کی محدود فکر میں پایا جاتا ہے اور اس طرح کی چیز یقینا محدود ہے ۔
اس صورت میں خدا وند عالم معدودات اور شمار کی جانے والی اشیاء کی فہرست میں قرار پائے گا، کیونکہ محدود ہونے کا لازمہ یہ ہے کہ دوسری موجود کے ممکن ہونے کا تصور دوسری جگہ پر اس کے جیسا ہی ہے ۔ صرف تمام جہات سے نامحدود ہے جس کا کوئی دوسرا نہیں ہے اور یہ عدد و شمارمیںنہیں آسکتا ۔
اس طرح ”مولی الموحدین“ نے توحید کی حقیقت کو مختصر عبارت میں اس کے تمام معنی کے ساتھ منعکس کردیا ہے اور خدا وند عالم کو خیال و قیاس اور گمان ووہم سے بالاتر بیان کیا ہے ۔
یہ وہی چیز ہے جس کو امام محمد باقر(علیہ السلام)نے بہت خوبصورت عبارت میں بیان کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: ” کل ما میزتموہ باوھامکم فی ادق معانیہ مخلوق مصنوع مثلکم مردود الیکم“ہر چیز کو جب تم اپنے وہم و گمان اور فکر میں تصور کرو گے چاہے وہ جتنی بھی دقیق اور ظریف ہو پھر بھی تمہاری مخلوق ہوگی اور تمہاری طرف پلٹے گی(اور وہ خود تمہاری بنائے ہوئی ہوگی اور تمہارے وجود سے ہماہنگ ہوگی اور خدا اس سے بزرگ ہے کہ کسی مخلوق سے ہماہنگ ہو)(۱) ۔
یہ احتمال بھی پایا جاتا ہے کہ : ”اشارہ“، عقلی اشارہ کو بھی شامل ہو اور حسی کو بھی۔ کیونکہ خداوند عالم کی جسمانیت کا اعتقاد بھی جہل ہے اور اس کا نتیجہ اس کی ذات کو محدود کرنا ہے اور اس کی ذات کو شمار کرنے، شریک، مثل اور اس کے لئے کسی نظیر کا قائل ہونا ہے ۔
۱۔ بحار الانوار، جلد ۶۶، ص ۲۹۳۔
سوال
یہاںپر ایک سوال پیش آتا ہے کہ اگر خدا وندعالم کسی بھی صورت میں اشارہ عقلی کے قابل نہیں ہے تو پھر خدا وندعالم کی معرفت کی کوشش نہ کی جائے اور اس کی شناخت کے دروازہ انسان پر بند ہوجائیں، اور خدا شناسی کا کوئی مفہوم باقی نہیں رہ جاتا ۔ کیونکہ جب بھی اس کی ذات کی طرف بڑھیں گے تو اپنی فکر کی مخلوقات تک پہنچیں گے اورجتنا بھی اس سے نزدیک ہونا چاہیں گے اتنا ہی اس سے دورہوں گے ، لہذا بہتر یہ ہے کہ اس کی معرفت میں قدم نہ رکھیں اور خود کو اس کے شرک میں گرفتار نہ کریں ۔
جواب
ایک باریک نکتہ (جو یہاں بھی مشکل کو آسان کرے گا اور دوسرے ابواب میں بھی)کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کاجواب واضح ہوجائے گااور وہ یہ ہے کہ معرفت و شناخت کی دو قسمیں ہیں: معرفت اجمالی اور معرفت تفصیلی۔ دوسرے لفظوں میں شناخت کنہ ذات اور شناخت مبدا افعال۔
جس وقت اس دنیا اور ان تعجب خیز موجودات میں ان کی ظرافت اورعظمت کے ساتھ غور و فکر کرتے ہیں یا اپنے وجود میں جب غور وفکر کرتے ہیں تو اجمالا سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی خالق، پیدا کرنے والااور اس کا کوئی مبداء ہے، یہ وہی علم اجمالی ہے جو خدا سے متعلق انسان کی شناخت کی قدرت کا آخری مرحلہ ہے(جتنا بھی اس دنیا کے اسرار و رموز سے آکاہ ہوں گے اتناہی اس کی عظمت سے آشنا ہوں گے اور معرفت اجمالی کی راہ میں قوی تر ہوتے جائیں گے)لیکن جس وقت اپنے آپ سے سوال کریں کہ وہ کیا ہے؟ اور کیسا ہے؟ اور اس کی ذات کی حقیقت کی طرف قدم بڑھائیں گے تو حیرت و سرگردانی کے علاوہ کچھ ہمارے ہاتھ نہیں لگے گا اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ اس کی طرف کامل طور سے راستہ کھلا ہوا ہے اور کامل طور سے راستہ بند بھی ہے ۔
اس مسئلہ کو ایک واضح مثال سے روشن کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ جاذبہ کی ایک قوت پائی جاتی ہے ، کیونکہ جس چیز کو بھی اوپر سے چھوڑا جائے وہ نیچے گرے گی اور زمین کی طرف جذب ہوگی اور اگر یہ جاذبہ نہ ہوتا تو زمین کے اوپر کسی بھی موجودکو آرام و سکون نہ ملتا ۔
جاذبہ سے آشنائی ایسی چیز نہیں ہے کہ فقط دانشمند حضرات اس سے واقف ہیں یہاں تک کہ بچے اور کم عمر کے بچے بھی اس کو بخوبی درک کرتے ہیں ، لیکن حقیقت جاذبہ کیا ہے؟ کیا نامرئی امواج یا ناشناختہ ذرات یا کوئی اور طاقت ہے؟ اور تعجب آور بات یہ ہے کہ جاذبہ کی طاقت کو مادہ کے برخلاف ،ظاہرا یک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے میں زمان و وقت کی ضرورت نہیں ہے ،بخلاف نور کہ جس کی ہرکت مادہ کی دنیا میں سے زیادہ تیز ہے ، لیکن پھر بھی اس کو فضا میں منتقل ہونے کیلئے کبھی ایک نقطہ سے دوسرے نقط تک پہنچنے میں لاکھوں سال لگ جاتے ہیں ۔ لیکن جاذبہ کی طاقت ایک لمحہ میں ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ کی طرف منتقل ہوجاتی ہے یا کم از کم اس کی سرعت اس سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس کے بارے میں ہم نے سنا ہے ۔
یہ کیسی طاقت ہے جس میں یہ آثار پائے جاتے ہیں؟ اس کی ذات کی حقیقت کیسی ہے؟ کسی کے بھی پاس اس کا واضح جواب موجود نہیں ہے ۔
جب جاذبہ کی طاقت کے سلسلہ میں ہمارا علم فقط اجمالی ہے جو کہ ایک مخلوق ہے اور اس کے علم تفصیلی سے ہم بہت دور ہیں تو کس طرح جہان مادہ کے خالق اور ماورائے مادہ جو بے نہایت موجود ہے اس کی ذات کی حقیقت سے باخبر ہوسکتے ہیں؟!اس کے باوجود اس کو ہرجگہ حاضر و ناظر اور ہر موجود کے ساتھ اس دنیا میں مشاہدہ کرتے ہیں ۔
با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من
با صد ہزار دیدہ تماشا کنم تو را
” و من حدہ فقد عدہ“ ایک دقیق نکتہ کی طرف اشارہ ہے جومذکورہ کلام سے واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی خدا کو محدود سمجھے، تو وہ اس کے لئے عدد کا قائل ہوگیایا دوسرے لفظوں میں یہ کہاجائے کہ شریک کے وجود کو اس کے لئے ممکن سمجھا ۔ کیونکہ جو چیز ہر لحاظ سے نامحدود ہو تی ہے اس کا کوئی شریک اور شبیہ و نظیر نہیں ہوتاہے لیکن اگر محدود ہو(چاہے اس کی جتنی بھی عظمت اور بزرگی پائی جاتی ہو) تو اس کی شبیہ و نظیر اس کی ذات سے الگ تصور کی جاتی ہے ، دوسرے لفظوں میں دو یا چند محدود موجود(جتنی بھی بڑی ہوں)کاملا ان کا ممکن ہونا قابل قبول ہے لیکن ہر لحاظ سے نامحدود چیز کے لئے دوسرا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ جس چیز کا بھی تصور کریں وہ اس کی ذات کی طرف پلٹتی ہے ۔