خطبہ ۱۱۸

خدا کی قسم ! مجھے پیغاموں کے پہنچانے ، وعدوں کے پورا کرنے اور آیتوں کی صحیح تاویل بیان کرنے کا خوب علم ہے اور ہم اہل بیت ﷼ (نبوت) کے پاس علم و معرفت کے دروازے اور شریعت کی روشن راہیں ہیں۔ آگاہ ہو کہ دین کے تمام قوانین کی روح ایک اور اسی کی راہیں سیدھی ہیں جو ان پر ہو لیا و ہ منزل تک پہنچ گیا اور بہرہ یاب ہوا اور جو ٹھہرا رہا وہ گمراہ ہو اور (آخر کار) نا دم و پشیمان ہوا۔ اس دن کے لیے عمل کرو کہ جس کے لیے ذخیرے فراہم کئے جاتے ہیں اور جس میں نیتوں کو جانچا جائے گا۔ جسے اپنی ہی عقل فائدہ نہ پہنچائے کہ جو اس کے پاس موجود ہے ، تو (دوسروں کی) عقلیں کہ جو اس سے دور اور اوجھل ہیں۔ فائدہ رسانی سے بہت عاجز و قاصر ہوں گی (دوزخ کی آگ سے ڈرو کہ جس کی تپش تیز اور گہرائی بہت زیادہ ہے ۔ اور (جہاں پہننے کو) لوہے کے زیور اور (پینے کو پیپ بھرا لہو ہے ۔ ہاں !(۱) جس شخص کا ذکرِ خیر لوگوں میں خدا برقرار رکھے وہ اس کے لیے اس مال سے کہیں بہتر ہے جس کا ایسوں کو وارث بنا یا جاتا ہے جو اس کی سراہتے تک نہیں۔


(۱) اگر انسان جیتے جاگتے اپنے اختیار سے کسی کو کچھ دے جائے تو لینے والا اس کا احسان مند ہوتا ہے ۔ لیکن جو مال مجوری سے چھن جائے ، تو چھین لینے والا اپنے کو اس کا زیر احسان نہیں سمجھتا اور نہ اسے سراہتا ہے یہی حالت مرنے والے کی ہوتی ہے کہ اس کے ورثاء یہی سمجھتے ہیں کہ وہ جو کچھ چھوڑا گیا ہے وہ ہمارا حق تھا کہ جو ہمیں ملنا چاہیئے تھا۔ اس میں اس کا احسان ہی کیا کہ اسے سراہا جائے ۔ لیکن اسی مال سے اگر وہ کوئی اچھا کام کر جاتا ، تو دنیا میں اس کا نام بھی رہتا اور دنیا والے اس کی تحسین و آفرین بھی کرتے #

خنک کے کہ پس ازدے حدیث خیر کنند کہ جز حدیث نے مانداز بنی آدم!